ابنا: امریکہ کے اس تحقیقاتی مرکز کے مطابق اگر اوباما کی حکومت اب تک یہ دعوی کرسکتی تھی کہ اس کی ایران مخالف پالیسیاں کامیاب رہی ہیں تو اب یقینا امریکہ کی یہ پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ اس ادارے کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ خطے میں ایران کو خطرہ ظاہر کرنے کے لۓ حسنی مبارک سمیت اپنے جن حامیوں کی مدد لیتا تھا وہ اب اقتدار سے محروم ہوچکے ہیں اور خطے کے حالات کے نتیجے میں اوباما کو وراثت میں ملنے والی علاقائی اسٹریٹیجی کے ستون گر چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گيا ہےکہ سعودی عرب اور بحرین سمیت ایران مخالف اتحاد کے دوسرے اراکین کو شدید داخلی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اور ان کو ایران کی جانب سے نہیں بلکہ اپنی سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سے اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ اور ان حکومتوں کی توجہ اپنے اپنے عوام کی مرضی کے منافی خارجہ پالیسی اختیار کرنے کے خطرات کی جانب بھی ہوگي۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے خیال باطل کے مطابق ایران کے اسلامی نظام کی سرنگونی اور اسلامی بیداری کے گہوارے ایران کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران ملت ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر سیاسی، فوجی ، اقتصادی اور ثقافتی اور سلامتی کے میدان میں سازشیں کیں ۔لیکن ملت ایران نے یہ تمام سازشیں ناکام بنا دیں۔ اور مشکلات کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ جن سامراجی طاقتوں نے ایران کا بائیکاٹ کیا آج وہ خود اقتصادی بحران کا شکار ہوچکی ہیں۔ جبکہ ایران نے پابندیوں کے زمانے میں بڑی کامیابی کے ساتھ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت تمام میدانوں میں اپنی ترقی و پیشرفت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس میں شک نہیں کہ ان کامیابیوں کی وجہ سے نہ صرف یورپ کی ایران مخالف پالیسیاں غیر معتبر ہو کر رہ گئي ہیں بلکہ دنیا بھر میں اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب خطے اور دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ اور خطے اور اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ نفرت امریکہ سے ہی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یورپ میں اقتصادی مشکلات اور سماجی بحران میں شدت کے ساتھ ساتھ امریکہ کی مقبولیت میں کمی آتی جارہی ہے۔بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی بیداری نے ایک نیا سیاسی نظام متعارف کرایا ہے ۔ اور اس سیاسی نظام کے ترکیبی عناصر اقوام کی دینی و ثقافتی اقدار پر مبنی جمہوریت اور عدل طلبی ہیں۔ اس لۓ تیونس اور مصر کے ڈکٹیٹروں کی برطرفی پر منتج ہونے والے مشرق وسطی کے حالیہ ایک سال کے واقعات نے خطے کی اقوام کو پٹھو حکومتوں کے تسلط سے نجات دلا دی ہے۔ اور علاقے میں امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملت ایران کے دشمن کہ جو سافٹ وار ، ایران میں فتنہ و فساد برپا کرنے ، ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے اور اسلام سے لوگوں کو ڈرانے سمیت مختلف حربوں کے ذریعے اسلامی جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے درپے رہے ہیں اب خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایران مخالف اپنی علاقائی پالیسیوں کو ناکام قرار دینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
...............
/169